یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت جدید ٹیکنالوجی (AI) کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر مصطفٰی خطابکے "واضح قرآن" پر مبنی ہے۔

القارعة (سورہ 101)
القارعة (ہولناک آفت)
تعارف
یہ مکی سورہ قیامت کے دن اور آخرت میں اعمال کے وزن کو بیان کرتی ہے، جس کے بعد جنت یا جہنم کی آخری منزل کا ذکر ہے۔ بہت سے لوگوں کے جہنم میں جانے کی وجہ اگلی سورہ میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔
نیک اور بدکاروں کا انجام
1. کھڑکھڑانے والی آفت! 2. کھڑکھڑانے والی آفت کیا ہے؟ 3. اور آپ کو کیا معلوم کہ کھڑکھڑانے والی آفت کیا ہے؟ 4. (یہ وہ دن ہے جب) لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوں گے، 5. اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے۔ 6. پس جن کے (نیک اعمال کا) پلڑا بھاری ہوگا، 7. وہ آرام دہ زندگی میں ہوں گے۔ 8. اور جن کا پلڑا ہلکا ہوگا، 9. ان کا ٹھکانہ گہرا گڑھا (ہاویہ) ہوگا۔ 10. اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ کیا ہے؟ 11. (یہ) ایک بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔