یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت جدید ٹیکنالوجی (AI) کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر مصطفٰی خطابکے "واضح قرآن" پر مبنی ہے۔

Surah 21 - الانبیاء

Al-Anbiyâ' (سورہ 21)

الانبیاء (انبیاء)

مکی سورہمکی سورہ

تعارف

پچھلی سورت کی طرح، یہ بھی ایک مکی سورت ہے جس کا مقصد نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے، اور انہیں اللہ کے انبیاء—جیسے حضرت ابراہیمؑ، ایوبؑ، یونسؑ، زکریاؑ اور عیسیٰؑ—پر اللہ کی عنایت اور مدد یاد دلانا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر بھیجے گئے ہیں (آیت 107)۔ اس سورت میں قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی تنبیہات جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں، جو اگلی سورت میں بھی جاری رہتی ہیں۔ اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، رحم فرمانے والا ہے۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔

حق سے بے حسی

1. لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے، پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑ رہے ہیں۔ 2. جب بھی ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت ان کے پاس آتی ہے، وہ اسے مذاق میں ہی سنتے ہیں، 3. ان کے دل (مکمل طور پر) غافل ہوتے ہیں۔ بدکار آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے کہتے، "کیا یہ (شخص) تمہارے جیسا انسان نہیں ہے؟ کیا تم (اس) جادو میں پھنس جاؤ گے، حالانکہ تم (صاف صاف) دیکھ سکتے ہو؟" 4. نبی نے جواب دیا، "میرا رب آسمانوں اور زمین میں کہی گئی ہر بات کو (پوری طرح) جانتا ہے۔ کیونکہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔" 5. پھر بھی وہ کہتے ہیں، "یہ (قرآن) پریشان خوابوں کا مجموعہ ہے! نہیں، اس نے اسے گھڑ لیا ہے! نہیں، اسے شاعر ہونا چاہیے! تو اسے ہمارے لیے ایک (ٹھوس) نشانی لانی چاہیے جیسے پہلے (نبیوں) کو بھیجی گئی تھیں۔" 6. ان سے پہلے ہم نے کوئی ایسی قوم تباہ نہیں کی جس نے (نشانیوں کے بعد) کبھی ایمان لایا ہو گا۔ تو کیا یہ (مشرکین) ایمان لائیں گے؟

ٱقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
١
مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا ٱسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
٢
لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا ٱلنَّجْوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَـٰذَآ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ ٱلسِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
٣
قَالَ رَبِّى يَعْلَمُ ٱلْقَوْلَ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
٤
بَلْ قَالُوٓا أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍۭ بَلِ ٱفْتَرَىٰهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِـَٔايَةٍ كَمَآ أُرْسِلَ ٱلْأَوَّلُونَ
٥
مَآ ءَامَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
٦

سورہ 21 - الانبیاء (انبیاء) - آیات 1-6


انسانی، نہ کہ فرشتہ رسول

7. ہم نے آپ سے پہلے (پیغمبر) نہیں بھیجے مگر ایسے انسان جنہیں ہم نے وحی کی۔ اگر تم (مشرکین) (یہ پہلے سے) نہیں جانتے تو اہل علم (اہلِ کتاب) سے پوچھ لو۔ 8. ہم نے ان رسولوں کو (مافوق الفطرت) ایسے جسم نہیں دیے تھے جنہیں کھانے کی ضرورت نہ ہو، اور نہ ہی وہ لافانی تھے۔ 9. پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا، انہیں اور جنہیں ہم نے چاہا بچا لیا اور سرکشوں کو ہلاک کر دیا۔

وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِىٓ إِلَيْهِمْ ۖ فَسْـَٔلُوٓا أَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
٧
وَمَا جَعَلْنَـٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَـٰلِدِينَ
٨
ثُمَّ صَدَقْنَـٰهُمُ ٱلْوَعْدَ فَأَنجَيْنَـٰهُمْ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهْلَكْنَا ٱلْمُسْرِفِينَ
٩

سورہ 21 - الانبیاء (انبیاء) - آیات 7-9


مکی مشرکین سے دلیل

10. یقیناً ہم نے تم پر ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لیے عظمت ہے۔ تو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھو گے؟ 11. (تصور کرو) ہم نے کتنی ظالم بستیوں کو تباہ کیا، ان کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھایا! 12. جب ظالموں نے ہمارے عذاب کی (آمد) محسوس کی، تو وہ اپنے شہروں سے بھاگنے لگے۔ 13. (ان سے کہا گیا،) "بھاگو مت! اپنی عیش و عشرت اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، تاکہ تم سے (اپنے انجام کے بارے میں) سوال کیا جا سکے۔" 14. وہ چلائے، "ہائے افسوس ہم پر! ہم یقیناً ظالم تھے۔" 15. وہ اپنی فریاد دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا، (انہیں) بے جان کر دیا۔

لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـٰبًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
١٠
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ
١١
فَلَمَّآ أَحَسُّوا بَأْسَنَآ إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ
١٢
لَا تَرْكُضُوا وَٱرْجِعُوٓا إِلَىٰ مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَـٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْـَٔلُونَ
١٣
قَالُوا يَـٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ
١٤
فَمَا زَالَت تِّلْكَ دَعْوَىٰهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَـٰهُمْ حَصِيدًا خَـٰمِدِينَ
١٥

سورہ 21 - الانبیاء (انبیاء) - آیات 10-15


خدائی تفریح؟

16. ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو کھیل کے لیے نہیں بنایا۔ 17. اگر ہم (کچھ) تفریح کرنا چاہتے، تو اگر ہماری مرضی ہوتی تو اسے اپنے پاس ہی پا لیتے ۔ 18. بلکہ، ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں، تو وہ اسے کچل دیتا ہے، اور وہ جلدی غائب ہو جاتا ہے۔ اور تمہارے لیے ہلاکت ہو جو تم دعویٰ کرتے ہو! 19. اسی کے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور جو اس کے قریب ہیں وہ اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور نہ ہی تھکتے ہیں۔ 20. وہ دن رات (اس کی) تسبیح کرتے ہیں، کبھی ڈگمگاتے نہیں۔

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَـٰعِبِينَ
١٦
لَوْ أَرَدْنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّٱتَّخَذْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَـٰعِلِينَ
١٧
بَلْ نَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَى ٱلْبَـٰطِلِ فَيَدْمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ ٱلْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
١٨
وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَنْ عِندَهُۥ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ
١٩
يُسَبِّحُونَ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ
٢٠

سورہ 21 - الانبیاء (انبیاء) - آیات 16-20


الانبیاء (انبیاء) - باب 21 - ڈاکٹر مصطفی خطاب کا واضح قرآن - لفظ بہ لفظ ترجمہ اور قرآن کی تلاوت