یہ ترجمہ مصنوعی ذہانت جدید ٹیکنالوجی (AI) کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر مصطفٰی خطابکے "واضح قرآن" پر مبنی ہے۔

Surah 20 - طٰہٰ

طه (سورہ 20)

طٰہٰ (طہٰ)

مکی سورہمکی سورہ

تعارفStoriesUnseen

چونکہ پچھلی سورت میں موسیٰ (ﷺ) اور آدم (ﷺ) کا سرسری طور پر ذکر کیا گیا ہے، ان کی کہانیاں یہاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ یہ مکی سورت نبی (ﷺ) کو یقین دلاتی ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے حتیٰ کہ سب سے ظالم مخالفت (فرعون کی شکل میں) کے خلاف بھی اور یہ کہ اللہ سخت ترین دلوں کو بھی کھول سکتا ہے (فرعون کے جادوگروں کی شکل میں)۔ سورت کے آغاز اور اختتام دونوں میں قرآن کی الہی نوعیت کو ہدایت اور ابدی سعادت کا سرچشمہ ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ جو لوگ قرآنی یاد دہانی سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس دنیا میں بدحالی اور یومِ حساب پر ہولناک عذاب کی تنبیہ کی گئی ہے۔ نبی (ﷺ) کو مشرکوں کے انکار کے خلاف صبر اور دعا میں تسلی حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جس کی تفصیل اگلی سورت کے آغاز میں ہے۔ اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔

Ṭâ-Hâ - Ṭâ-Hâ

اس صفحے پر عربی متن پڑھیں، اردو ترجمہ سمجھیں، تلاوت سنیں، اور آیت بہ آیت مطالعہ کو واضح ترتیب کے ساتھ جاری رکھیں۔

طٰہٰ۔ ہم نے آپ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ بلکہ یہ اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو (اللہ سے) ڈرتا ہے۔